باتوں کا جمع خرچ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - خالی باتیں، لفاظی (جس کا کوئ خاص مفہوم یا مقصد نہ ہو)۔ کام آئے گا عمل سے عقیدہ کتاب کا باتوں کا جمع خرچ نہیں دن حساب کا ( ١٩٦٥ء، اطہر، گلدستۂ اطہر، ٤١:٢ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم بات کی جمع 'باتوں' اور کلمہ اضافت 'کا' اور عربی سے ماخوذ اس 'جمع' اور فارسی سے ماخوذ اسم 'خرچ' سے مل کر مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٠ء میں 'آب حیات" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر